Friday, 24 February 2012

بے وفا آنکھیں

تم نے کہا تھا
بے وفائی تو نہ کرو گے
 میں نے پوچھا تھا
تمہیں مجھ پر میرے پیار  پراعتبار نہیں
 تم نے کہا تھا
 لوگ کہتے ھیں
سبز آنکھوں والے بے وفا ھوتے ھیں
 اور جن کی آنکھوں میں  تل ھو وہ دغا دیتے ھیں
 تمہاری تو آنکھیں سبز ھٰیں
اور ایک آنکھ میں تل بھی ھے
 پھر اک روز اچانک  کیا نارسائی تھی  کہ تم دور ھو گئے
تمہاری تو آنکھیں بھی سیاہ تھیں
 اور تل
 وہ بھی گال پر تھا 

Tuesday, 14 February 2012

آج ویلنٹاین ڈے ھے

میں نے کہا
آج ویلنٹاین ڈے ھے
 اس نے کہا
 پھر اس میں کیا خاص ھے
میں نے کہا
محبت کا دن ھے
 وصال کا دن ھے
اس نے کہا
میری محبت تو ہجر کی دیوار میں چننی جا چکی
مجھے کیا اگر اج محبت کا دن ھے
 وصال کا دن ھے
 پورے شہر کی دکانوں میں سجے
 ٹیڈی بیر ، ریڈ ھارٹ اور سرخ گلاب بھی
 مجھے خوش نہیں کر سکتے
 جو  خوشی اس کی اک دید سے ھوتی تھی

Tuesday, 17 January 2012

اکائی

اکائی
میں اک درخت ھوں
اور اس لمحہِ موجود میں ھوں
ماضی حال اور مستقبل کا امیں ھوں
میرا ماضی حال مستقبل
مجھ سے جڑا ھے
میرے پیکر سے بندھا ھے
یہ میرے واسطے اک اکائی ھے
میری جڑیں میرا ماضی ہیں
جو میرےحال میرے مستقبل کی آبیاری کرتی ہیں
میرے سرسبزوشاداب برگ و بار
میراحال ہیں
میرا حال جو ھر لحظہ تغیر میں ھے
میرے ثمر میرا مستقبل ہیں
میری پہچان ہیں
اس میں پوشیدہ ھے
میرا کل جو گزر گیا
میرا کل جو آنے والا ھے

Saturday, 17 December 2011

تم جب یاد آئے

تیرے ساتھ گزرے لمحے
جب یاد آتے ہیں
تو آنکھیں بھر جاتی ہیں
اک آب رواں سے
جس پہ تیرنے لگتے ہیں
تیرے مشکبار احساس کے پھول
تیری آنکھوں کے دیپ
تیرے ھونٹوں تیرے لمس کے
سمن و گلاب
اور میں آنکھوں سے
ان منظروں
اور ان کے احساس
اور اس آب رواں کو
دل میں اتار لیتا ھوں
جو پھر موجزن رھتا مجھ میں
زندگی کی حرارت بن کر
جینے کا احساس
اور محبت کی طاقت بن کر

Friday, 16 December 2011

ستاروں کی گزرگاہ

ازل سے ابد تک
پھیلی اک رہگزر ھے
جس پہ قدموں کے نشاں بتاتے ہیں
یہ وہ سفر ھے
جو رائگاں نہیں گیا ھے
اس راہ پہ جو بھی چلا ھے
اپنے قدموں کے نشاں
اس رستے پہ چھوڑ گیا ھے
اس لئے کہ
آنے والے
اس رستے پہ سفر کرتے
خود کو تنہا نہ جانیں
کہ سچائی کے اس سفر میں
تنہائی انسان کا مقدر ھے

Friday, 9 December 2011

میری امید کی ناو

جیون کی ندیا
بہہ رہی ھے
اور اس میں
تیر رہی ھے
میری امید کی ناو
۔میری امید
جسے اعتبار بخشا ھے
اک تیرہ شب میں
صبح کے اجالے نے
صبح کا اجالا
جو تیری دید ھے
یہ جو تیری دید ھے
یہ ھی میری امید ھے

Tuesday, 29 November 2011

قربت

وہ جو سب میرے سوال تھے
نظموں میں میری ڈھل گئے
وہ جو سب تیرے جواب تھے
تیری اک نگاہ میں چمک اٹھے
تیرا ھاتھ جب میرے ھاتھ تھا
کوئی حرف بھی نہ تھا معتبر
نہ میرے وھم و گمان کا
نہ ھی میرے آینہ حال کا
تیری سب عنایتیں مجھ پہ تھیں
تیرے التفات کی بارشیں
مجھے اس طرح بھگو گیں
میرے رات دن بدل گئے
میں تجھ سے دور اگر سہی
میں تیرے پاس نہیں اس طرح
تو میرے قریب ھے اس قدر
میرا دل دھڑکتا ھے تیرے نام سے

Monday, 10 October 2011

Saturday, 24 September 2011

Thursday, 8 September 2011

Tuesday, 30 August 2011

Saturday, 13 August 2011

Tuesday, 12 July 2011

Thursday, 7 July 2011

Wednesday, 29 June 2011

Tuesday, 21 June 2011

Saturday, 4 June 2011

Tuesday, 24 May 2011

Thursday, 19 May 2011

Tuesday, 17 May 2011

Thursday, 12 May 2011

Monday, 9 May 2011

Thursday, 28 April 2011

Tuesday, 26 April 2011

Monday, 25 April 2011

Tuesday, 19 April 2011

Thursday, 7 April 2011

Tuesday, 5 April 2011

Wednesday, 30 March 2011

Monday, 21 March 2011

Tuesday, 8 March 2011

Thursday, 3 March 2011