Inspirations and Expressions
Saturday, 10 November 2012
Friday, 24 February 2012
بے وفا آنکھیں
تم نے کہا تھا
بے وفائی تو نہ کرو گے
میں نے پوچھا تھا
تمہیں مجھ پر میرے پیار پراعتبار نہیں
تم نے کہا تھا
لوگ کہتے ھیں
سبز آنکھوں والے بے وفا ھوتے ھیں
اور جن کی آنکھوں میں تل ھو وہ دغا دیتے ھیں
تمہاری تو آنکھیں سبز ھٰیں
اور ایک آنکھ میں تل بھی ھے
پھر اک روز اچانک کیا نارسائی تھی کہ تم دور ھو گئے
تمہاری تو آنکھیں بھی سیاہ تھیں
اور تل
وہ بھی گال پر تھا
بے وفائی تو نہ کرو گے
میں نے پوچھا تھا
تمہیں مجھ پر میرے پیار پراعتبار نہیں
تم نے کہا تھا
لوگ کہتے ھیں
سبز آنکھوں والے بے وفا ھوتے ھیں
اور جن کی آنکھوں میں تل ھو وہ دغا دیتے ھیں
تمہاری تو آنکھیں سبز ھٰیں
اور ایک آنکھ میں تل بھی ھے
پھر اک روز اچانک کیا نارسائی تھی کہ تم دور ھو گئے
تمہاری تو آنکھیں بھی سیاہ تھیں
اور تل
وہ بھی گال پر تھا
Tuesday, 14 February 2012
آج ویلنٹاین ڈے ھے
میں نے کہا
آج ویلنٹاین ڈے ھے
اس نے کہا
پھر اس میں کیا خاص ھے
میں نے کہا
محبت کا دن ھے
وصال کا دن ھے
اس نے کہا
میری محبت تو ہجر کی دیوار میں چننی جا چکی
مجھے کیا اگر اج محبت کا دن ھے
وصال کا دن ھے
پورے شہر کی دکانوں میں سجے
ٹیڈی بیر ، ریڈ ھارٹ اور سرخ گلاب بھی
مجھے خوش نہیں کر سکتے
جو خوشی اس کی اک دید سے ھوتی تھی
آج ویلنٹاین ڈے ھے
اس نے کہا
پھر اس میں کیا خاص ھے
میں نے کہا
محبت کا دن ھے
وصال کا دن ھے
اس نے کہا
میری محبت تو ہجر کی دیوار میں چننی جا چکی
مجھے کیا اگر اج محبت کا دن ھے
وصال کا دن ھے
پورے شہر کی دکانوں میں سجے
ٹیڈی بیر ، ریڈ ھارٹ اور سرخ گلاب بھی
مجھے خوش نہیں کر سکتے
جو خوشی اس کی اک دید سے ھوتی تھی
Tuesday, 17 January 2012
اکائی
اکائی
میں اک درخت ھوں
اور اس لمحہِ موجود میں ھوں
ماضی حال اور مستقبل کا امیں ھوں
میرا ماضی حال مستقبل
مجھ سے جڑا ھے
میرے پیکر سے بندھا ھے
یہ میرے واسطے اک اکائی ھے
میری جڑیں میرا ماضی ہیں
جو میرےحال میرے مستقبل کی آبیاری کرتی ہیں
میرے سرسبزوشاداب برگ و بار
میراحال ہیں
میرا حال جو ھر لحظہ تغیر میں ھے
میرے ثمر میرا مستقبل ہیں
میری پہچان ہیں
اس میں پوشیدہ ھے
میرا کل جو گزر گیا
میرا کل جو آنے والا ھے
میں اک درخت ھوں
اور اس لمحہِ موجود میں ھوں
ماضی حال اور مستقبل کا امیں ھوں
میرا ماضی حال مستقبل
مجھ سے جڑا ھے
میرے پیکر سے بندھا ھے
یہ میرے واسطے اک اکائی ھے
میری جڑیں میرا ماضی ہیں
جو میرےحال میرے مستقبل کی آبیاری کرتی ہیں
میرے سرسبزوشاداب برگ و بار
میراحال ہیں
میرا حال جو ھر لحظہ تغیر میں ھے
میرے ثمر میرا مستقبل ہیں
میری پہچان ہیں
اس میں پوشیدہ ھے
میرا کل جو گزر گیا
میرا کل جو آنے والا ھے
Saturday, 17 December 2011
تم جب یاد آئے
تیرے ساتھ گزرے لمحے
جب یاد آتے ہیں
تو آنکھیں بھر جاتی ہیں
اک آب رواں سے
جس پہ تیرنے لگتے ہیں
تیرے مشکبار احساس کے پھول
تیری آنکھوں کے دیپ
تیرے ھونٹوں تیرے لمس کے
سمن و گلاب
اور میں آنکھوں سے
ان منظروں
اور ان کے احساس
اور اس آب رواں کو
دل میں اتار لیتا ھوں
جو پھر موجزن رھتا مجھ میں
زندگی کی حرارت بن کر
جینے کا احساس
اور محبت کی طاقت بن کر
جب یاد آتے ہیں
تو آنکھیں بھر جاتی ہیں
اک آب رواں سے
جس پہ تیرنے لگتے ہیں
تیرے مشکبار احساس کے پھول
تیری آنکھوں کے دیپ
تیرے ھونٹوں تیرے لمس کے
سمن و گلاب
اور میں آنکھوں سے
ان منظروں
اور ان کے احساس
اور اس آب رواں کو
دل میں اتار لیتا ھوں
جو پھر موجزن رھتا مجھ میں
زندگی کی حرارت بن کر
جینے کا احساس
اور محبت کی طاقت بن کر
Friday, 16 December 2011
ستاروں کی گزرگاہ
ازل سے ابد تک
پھیلی اک رہگزر ھے
جس پہ قدموں کے نشاں بتاتے ہیں
یہ وہ سفر ھے
جو رائگاں نہیں گیا ھے
اس راہ پہ جو بھی چلا ھے
اپنے قدموں کے نشاں
اس رستے پہ چھوڑ گیا ھے
اس لئے کہ
آنے والے
اس رستے پہ سفر کرتے
خود کو تنہا نہ جانیں
کہ سچائی کے اس سفر میں
تنہائی انسان کا مقدر ھے
پھیلی اک رہگزر ھے
جس پہ قدموں کے نشاں بتاتے ہیں
یہ وہ سفر ھے
جو رائگاں نہیں گیا ھے
اس راہ پہ جو بھی چلا ھے
اپنے قدموں کے نشاں
اس رستے پہ چھوڑ گیا ھے
اس لئے کہ
آنے والے
اس رستے پہ سفر کرتے
خود کو تنہا نہ جانیں
کہ سچائی کے اس سفر میں
تنہائی انسان کا مقدر ھے
Friday, 9 December 2011
میری امید کی ناو
جیون کی ندیا
بہہ رہی ھے
اور اس میں
تیر رہی ھے
میری امید کی ناو
۔میری امید
جسے اعتبار بخشا ھے
اک تیرہ شب میں
صبح کے اجالے نے
صبح کا اجالا
جو تیری دید ھے
یہ جو تیری دید ھے
یہ ھی میری امید ھے
بہہ رہی ھے
اور اس میں
تیر رہی ھے
میری امید کی ناو
۔میری امید
جسے اعتبار بخشا ھے
اک تیرہ شب میں
صبح کے اجالے نے
صبح کا اجالا
جو تیری دید ھے
یہ جو تیری دید ھے
یہ ھی میری امید ھے
Tuesday, 29 November 2011
قربت
وہ جو سب میرے سوال تھے
نظموں میں میری ڈھل گئے
وہ جو سب تیرے جواب تھے
تیری اک نگاہ میں چمک اٹھے
تیرا ھاتھ جب میرے ھاتھ تھا
کوئی حرف بھی نہ تھا معتبر
نہ میرے وھم و گمان کا
نہ ھی میرے آینہ حال کا
تیری سب عنایتیں مجھ پہ تھیں
تیرے التفات کی بارشیں
مجھے اس طرح بھگو گیں
میرے رات دن بدل گئے
میں تجھ سے دور اگر سہی
میں تیرے پاس نہیں اس طرح
تو میرے قریب ھے اس قدر
میرا دل دھڑکتا ھے تیرے نام سے
نظموں میں میری ڈھل گئے
وہ جو سب تیرے جواب تھے
تیری اک نگاہ میں چمک اٹھے
تیرا ھاتھ جب میرے ھاتھ تھا
کوئی حرف بھی نہ تھا معتبر
نہ میرے وھم و گمان کا
نہ ھی میرے آینہ حال کا
تیری سب عنایتیں مجھ پہ تھیں
تیرے التفات کی بارشیں
مجھے اس طرح بھگو گیں
میرے رات دن بدل گئے
میں تجھ سے دور اگر سہی
میں تیرے پاس نہیں اس طرح
تو میرے قریب ھے اس قدر
میرا دل دھڑکتا ھے تیرے نام سے
Monday, 10 October 2011
Saturday, 24 September 2011
Monday, 12 September 2011
Thursday, 8 September 2011
Tuesday, 30 August 2011
Saturday, 13 August 2011
Friday, 22 July 2011
Tuesday, 12 July 2011
Thursday, 7 July 2011
Wednesday, 29 June 2011
Tuesday, 21 June 2011
Saturday, 4 June 2011
Friday, 3 June 2011
Friday, 27 May 2011
Tuesday, 24 May 2011
Sunday, 22 May 2011
Thursday, 19 May 2011
Tuesday, 17 May 2011
Thursday, 12 May 2011
Monday, 9 May 2011
Thursday, 28 April 2011
Tuesday, 26 April 2011
Monday, 25 April 2011
Tuesday, 19 April 2011
Thursday, 7 April 2011
Tuesday, 5 April 2011
Sunday, 3 April 2011
Wednesday, 30 March 2011
Monday, 21 March 2011
Saturday, 19 March 2011
Tuesday, 8 March 2011
Thursday, 3 March 2011
Subscribe to:
Posts (Atom)

















































